خدا کا کارخانہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دنیا کا انتظام۔  بگڑے جاتے ہیں لاکھوں ہزاروں بنتے جاتے ہیں جہاں میں رات دن جاری خدا کا کارخانہ ہے      ( ١٨١٦ء، دیوان ناسخ، ٩١:١ ) ٢ - اللہ کی قدرت۔ "یہاں ایک عقد کر لیا تھا ایک لڑکا دو لڑکیاں ہوئیں، خدا کے کارخانے ادھر بیوی مریں لڑکا تو ان کے جیتے جی مر گیا تھا لڑکیاں بھی ایک ہی سال کے اندر گزر گئیں۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خدا' کے ساتھ 'کا' بطور حرف اضافت لگانے کے بعد فارسی زبان سے ہی اسم 'کارخانہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٦ء میں "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اللہ کی قدرت۔ "یہاں ایک عقد کر لیا تھا ایک لڑکا دو لڑکیاں ہوئیں، خدا کے کارخانے ادھر بیوی مریں لڑکا تو ان کے جیتے جی مر گیا تھا لڑکیاں بھی ایک ہی سال کے اندر گزر گئیں۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١٦١ )

جنس: مذکر